انٹرٹینمنٹ

جیکب آباد میں خسرہ کی وبا نے تباہی مچادی، ایک ماہ میں 40سے زائد بچے انتقال کرگئے

جیکب آباد میں خسرہ کی وباء نے تباہی نے مچادی، گذشتہ ایک ماہ کے دوران ضلع بھر میں 40 سے زائد بچے انتقال کرگئے، سینکڑوں مبتلا، محکمہ صحت خسرہ کی وباء کو روکنے میں ناکام۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد ضلع میں خسرہ کی وباء نے خطرناک صورت اختیار کرتے ہوئے تباہی مچائی ہوئی ہے ایک ماہ کے دوران ضلع بھر میں 40 سے زائد بچوں کے فوت ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ سینکڑوں بچے اس وباء میں مبتلا ہیں، خسرہ جیسی جان لیوا وباء کو کنٹرول کرنے میں محکمہ صحت مکمل ناکام ہوچکا ہے، جیکب آباد کے مختلف علاقوں میں خسرہ سے فوت ہونے والوں میں قصبہ رسول بخش کٹوہر میں 6 سالہ مسکان بنت لیاقت کٹوہر، قصبہ گھنور نندوانی میں 2 سالہ میر داد والد غلام سرور، قصبہ عبداللہ برڑو میں 3 سالہ کبریٰ بنت برکت برڑو، قصبہ عبداللہ برڑو میں فہد حسین ولد ندیم برڑو، 1 سالہ ایمان بنت سلمان بھٹو، 5 سالہ ابو ہریرہ ٹانوری، قصبہ حاجی رسول بخش میں 3 سالہ نورجہاں بنت اسد اللہ برڑو، قصبہ قلندر بخش برڑو میں خیراں، رحیم داد برڑو، قصبہ بچھڑو میں سویرا بنت محمد جمن بروہی، قصبہ دوست محمد سرکی میں 8 ماہ کی صوفیہ بنت محمد حیات سرکی، 7 ماہ کا انیس الرحمن ولد نظر محمد سرکی، دریا خان چوک کی رہائشی 2 سالہ عالیہ بنت عبدالنبی بھٹی، بلوچ کالونی کے رہائشی 4 سالہ محمد ولد امام الدین سبھایو، ٹھل کی رہائشی 2 سالہ تسلیم بنت لعل محمد بنگلانی، قصبہ آدم خان پہنور میں 3 سالہ شاہن ولد ممتاز، قصبہ لونگ خان جکھرانی میں 3 سالہ لڈان والد نبی بخش جکھرانی، قصبہ حمل کھوسو میں محمد عمر ولد رحیم بخش، سمیت سائرہ سومرو، نور احمد، برکت، فہد علی، محمد حکیم، محمد رمضان اور قصبہ قادر کے 3 بچے شامل ہیں، جیکب آباد میں تیزی سے پھیلتی ہوئی خسرہ کی وباء کا صوبائی وزیر صحت عذرا پیچوہو نے نوٹس لیا تھا جس کے بعد ان کی ہدایت پر پروجیکٹ ڈائریکٹر ای پی آئی اکرم سلطان نے جیکب آباد پہنچ کر جیکب آباد، ٹھل اور گڑہی خیرو کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور محکمہ صحت کے افسران کو ہدایت کی تھی کہ وہ بچوں کو ویکسین کریں انہوں نے اپنے دورے کے دوران محکمہ صحت کی غفلت کا بھی اعتراف کیا تھا، صوبائی وزیر صحت کے نوٹس کے باوجود محکمہ صحت جیکب آباد میں خسرہ کی وباء کی روکتھام میں ناکام ہوچکی ہے جس طرح خسرہ کی وباء سے بچے فوت ہورہے ہیں اس سے مزید اموات کاخدشہ ظاہر کیا جارہا ہے، متاثرہ علاقوں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ضلع بھر میں خسرہ کی وباء پر قابو پانے کے لیے ٹیمیں بھیجی جائیں اور اسپتالوں میں خسرہ کے وارڈ بنائیں جائیں تاکہ خسرہ میں مبتلا بچوں کا فوری اور بہتر علاج کیا جائے اور مزید اموات کو روکا جاسکے۔
٭٭٭٭٭

About the author

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

Leave a Comment

%d bloggers like this: