جرم

سندھ،سائنوفارم بیچنے کاانکشاف،متعلقہ افسران کی معطلی کی درخواست

سندھ میں غیر قانونی طور پر سائنو فارم ویکسین بیچنے کے انکشاف کے بعد تحقیقاتی کمیٹی نے آفس اسسٹنٹ اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ضلع وسطی کو معطل کرنے کی سفارش کردی ہے۔تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق کراچی کے ضلع وسطی میں سائنو فارم ویکسین کا غیر قانونی استعمال ثابت ہوا تھا، جس پر آفس اسسٹنٹ آفاق الدین کو معطل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے ویکسین کا چیک اینڈ بیلنس نہ رکھنے پر ڈی ایچ او ضلع وسطی ڈاکٹر مظفر اوڈھو کو بھی قصور وار قرار دے دیا۔ کمیٹی کے مطابق دوران تحقیق ویکسین ملنے والی وائیلز کا ریکارڈ نہیں ملا۔واضح رہے کہ محکمہ صحت نے فوکل پرسن ویکسینیشن سینٹر ڈاکٹر حرا کے انکشاف پر انکوائری کمیٹی بنائی تھی۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل سندھ میں سائنو فارم کی کمی کی متضاد خبریں سامنے آئی تھیں۔ مئی میں محکمہ صحت سندھ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ کسی بھی شہری کو سائنو فارم ویکسین کی پہلی ڈوز دینے پر پابندی ہوگی۔حکمہ صحت سندھ نے طبی عملے کو ہدایت کی تھی کہ سائنو فارم کی بجائے ایسٹرا زینیکا ویکسین لگائی جائے۔ سائنو فارم کی فرسٹ ڈوز لگانے والے عملے کو شوکاز جاری کیے جائیں گے، جن لوگوں کو پہلی ڈوز لگ چکی ہے صرف انہیں سائنو فارم کی دوسری ڈوز لگائی جائے گی۔محکمہ صحت سندھ کے اعداد و شمار کے مطابق سائنو فارم ویکسین پر پابندی کے باوجود کراچی ضلع شرقی میں 3335 ڈوز لگائی، ضلع غربی میں 913 اور ملیر میں 173 ڈوز لگائی گئیں۔ترجمان سندھ حکومت مرتضی وہاب نے ٹویٹر پر اس بارے میں لکھا تھا کہ سندھ میں سائنو فام پر پابندی نہیں، اس وقت صرف پہلی ڈوز کو روکا گیا ہے۔ تاکہ سائنو فارم کی پہلی ڈوز حاصل کرنے والے لوگوں کیلئے مناسب مقدار میں سپلائی کو یقینی بنایا جائے۔
٭٭٭٭٭

About the author

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

Leave a Comment

%d bloggers like this: