انٹرٹینمنٹ

شوبز انڈسٹری میں جنسی ہراسانی کی شکایت کیلئے کوئی پلیٹ فارم موجود نہیں، مہربانو

میرے پاس تم ہو، غلطی، خدا اور محبت’ جیسے ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی نوجوان اداکارہ مہربانو کے مطابق پاکستانی شوبز انڈسٹری میں ‘جنسی ہراسانی’ کی شکایت کرنے کے لیے کوئی طریقہ کار یا پلیٹ فارم موجود نہیں۔شوبز ویب سائٹ ‘سم تھنگ ہاٹ’ کو دیے گئے انٹرویو میں مہربانو نے شوبز انڈسٹری میں جنسی ہراسانی اور اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات سمیت سوشل میڈیا پر اداکارائوں کو تنقید کا نشانہ بنائے جانے جیسے معاملات پر کھل کر بات کی۔طویل دورانیے کے انٹرویو میں مہربانو نے اپنی تعلیم اور اداکاری پر بھی بات کی اور بتایا کہ انہوں نے امریکا سے اداکاری کی تعلیم حاصل کی اور وہ خوش قسمت ہیں کہ انہیں ڈراموں یا ویب سیریز میں بہادر خواتین کے کردار ملے۔مہربانو کا کہنا تھا کہ پاکستانی شوبز انڈسٹری ڈراموں کے سہارے ہی کھڑی ہے اور شاندار ڈراموں کی وجہ سے ہی ملکی انڈسٹری نے بیرونی دنیا میں نام کمایا مگر اب ماضی جیسے ڈرامے نہیں بنتے۔مہربانو نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر اداکارائوں کو اتنا تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ ان کی ذاتی و ازدواجی زندگی خاندانی زندگی بھی تباہ ہوجاتی ہے اور بعض مرتبہ تنقید کی وجہ سے لوگ خودکشی جیسا قدم تک اٹھا لیتے ہیں۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ اگر کسی خاتون کا دوپٹہ ادھر سے ادھر ہوجائے یا پھر لباس تھوڑا ہٹ جائے تو ہنگامہ مچ جاتا ہے، ایسی خواتین کو خاندان اور دوستوں سمیت تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ایسی خواتین خود کو زمین پر بوجھ سمجھ کر ڈپریشن کا شکار بن جاتی ہیں اور پھر خودکشی جیسے واقعات ہوتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں مہربانو نے اعتراف کیا کہ لڑکیوں کو کم عمری میں اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ انہیں خود ہراسانی کو سمجھنے میں وقت لگا اور کم عمری میں ہی میڈیا انڈسٹری کا حصہ بننے کی وجہ سے ان کے ساتھ بھی ہراسانی کے واقعات ہوئے۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ عام طور پر شوبز انڈسٹری میں اعلیٰ عہدے پر بیٹھے مرد حضرات لڑکیوں اور اداکارائوں کو ہراساں کرتے ہیں اور بعض مرتبہ خواتین اپنی نوکری اور کیریئر کی وجہ سے ہراسانی برداشت کرتی ہیں اور یہ حقیقت بھی ہے کہ نوکری کی وجہ سے خاموش رہنا پڑتا ہے۔جنسی ہراسانی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ کچھ سال قبل انہیں ایک شوٹنگ کے دوران مائیک سیٹ کرنے والے شخص نے جسمانی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی مگر وہ ان کی حرکت کو سمجھ نہیں پائیں، جس پر صبا قمر نے انہیں بچایا۔
٭٭٭٭٭٭

About the author

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

Leave a Comment

%d bloggers like this: