دنیا

ایران میں کنفیوژن، تطہیری عمل پاسداران انقلاب کے دل میں داخل

Written by Peerzada M Mohin
حکومت میں ایک ماہ کی افراتفری کے بعد اسرائیلی مداخلت کے خدشات کے درمیان ایرانی قیادت نے ایرانی پاسداران انقلاب میں تطہیر کا عمل شروع کر دیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق چند روز قبل حکام نے ایک سینئر ملیشیا جنرل کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کے شبہ میں گرفتار کیا تھا۔ اس سے قبل گذشتہ ہفتے انٹیلی جنس سربراہ حسین تائب کو برطرف کر دیا تھا۔ 59 سالہ تائب کی برطرفی ایران کی انٹیلی جنس سروسز کے لیے تین بڑے شرمناک واقعات کے بعد ہوئی، جن کے بارے میں اسرائیلی سیکیورٹی حکام کا خیال ہے کہ حکومت حیران اور پریشان ہے۔معلومات سے اشارہ ملتا ہے کہ پہلی شرمناک کوشش اس وقت ہوئی جب ایران نے ترکی میں اسرائیلی شہریوں پر جوابی حملے کرنے کی کوشش کی۔اسرائیل نے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے اپنے شہریوں کو فوری طور پر نکل جانے کا حکم دیا۔اسی عرصے کے دوران ترکی نے مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جس کا خیال ہے کہ وہ ایرانی جاسوسی سیلوں کے لیے کام کر رہے تھے۔دوسرا معاملہ مئی کے آخر میں ہوا جب اسرائیل نے ایرانی دستاویزات کا ایک سلسلہ شائع کیا، جس میں اس کے جوہری پروگرام کی تفصیلات بھی شامل تھیں۔تیسرا واقعہ ایرانی جوہری سائنسدانوں کے قتل کا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ایران کے دو جوہری سائنسدانوں کو ایجنٹ بھیج کر ان کے کھانے میں زہر ملا کرانہیں قتل کرایا۔اسی عرصے میں اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے آکٹوپس نظریے کا انکشاف کیا، جو ان کے بہ قول کارآمد ثابت ہوا ہے کیونکہ اس سے ایرانی قیادت میں صدمے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ایرانی تجزیہ کاروں نے وضاحت کی کہ پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس سربراہ حسین تائب ایران کے طاقتور ترین افراد میں سے ایک تھے اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات تھے۔انہوں نے ملک میں سینئر رہ نمائوں کے لیے مزید وزارتی تبدیلیاں کرنے کی بھی توقع کی، کیونکہ حکومت موساد کے مزید جاسوسوں کی تلاش کے لیے مہم شروع کر رہی ہے۔اس کے نتیجے میں ایرانی سیاست دان رضا تاغیزاد جو لندن میں مقیم ہیں توقع کرتے تھے کہ تائب کی برطرفی سے حکومت کے اندر سیاسی صفائی کا مزید اعلان ہو گا، کیونکہ عدم اطمینان اور اس کی علاقائی پالیسی کو درپیش چیلنجز کا سامنا ہے۔
٭٭٭٭٭

About the author

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

Leave a Comment

%d bloggers like this: