انٹرٹینمنٹ

کورونا کی نئی لہر کے سبب بالی ووڈ میں اربوں روپے دائو پر لگ گئے

Written by Peerzada M Mohin

کورونا وائرس کی تیسری لہر کی وجہ سے بالی ووڈ کی کئی فلموں کی نمائش کھٹائی میں پڑگئی جس کے باعث انڈسٹری کے اربوں روپے داؤ پر لگ گئے۔کورونا وائرس کی وجہ سے تیز ترین دنیا ایک دم سے تھم سی گئی ہے۔ ہر بڑے سے بڑا کام چاہتے ہوئے بھی انسان نوع کرنے سے قاصر ہے۔ ان میں سے ایک کام فلموں کی نمائش بھی ہے جو کہ اس وائرس کی وجہ سے مشکلات سے دو چار ہے۔فلموں کی بڑی انڈسٹریز میں ایک نام بالی ووڈ کا بھی ہے جہاں یومیہ کئی فلمیں نمائش کے لیے پیش کی جاتی تھیں تاہم کورونا وائرس نے اس انڈسٹری پر ایسے ڈیرے ڈالے کہ فلمیں اب روزانہ کے بجائے مہینوں میں نمائش کے لیے پیش کی جانے لگی ہیں۔سخت لاک ڈائون کے بعد بالی ووڈ کو احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے فلمیں بنانے اور نمائش کے لیے پیش کرنے کی اجازت دی گئی جس کے بعد سے فلمیں بننے کا سلسہ شروع ہوا، ابھی کچھ فلمیں سنیما گھروں کی زینت بنی ہی تھیں کہ کورونا کی تیسری لہر نے سب کچھ تہس نہس کر دیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق اگلے ایک سے دو ماہ کے دوران کئی فلموں کو نمائش کے لیے پیش کیا جانا تھا لیکن اب یہ فلمیں کورونا وائرس کے مزید پھیلاو? کی وجہ سے بعد میں ریلیز کی جائیں گی۔ریلیز موخر کیے جانے والی فلموں میں امیتابھ بچن اور عمران ہاشمی کی فلم ”چہرے” ہے جو کہ اگلے ماہ 9 اپریل کو ریلیز کی جانی تھی، دوسری فلم سیف علی خان اور رانی مکھرجی کی ”بنٹی اور ببلی ٹو” ہے جسے 23 اپریل کو نمائش کے لیے پیش کیا جانا تھا۔اسی طرح ”ہاتھی میرے ساتھی”، رام گوپال ورما کی فلم ” ڈی کمپنی ” سمیت بہت سی فلمیں ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ریلیز موخر کیے جانے کی وجہ سے فلم سازوں کے ایک ارب روپے سے زائد کے نقصان کا خدشہ ہے۔
٭٭٭٭٭

About the author

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

Leave a Comment

%d bloggers like this: