دنیا

امریکامیں نماز کی وجہ سے برطرف ملازمین کو ڈیڑھ کروڑ ڈالر ادا کرنے کا فیصلہ

کولو راڈوکرنے والی مقامی کمپنی نے نماز کی وجہ سے ملازمت سے برطرف کیے گئے صومالیہ کے 138 ملازمین کو ڈیڑھ کروڑ ڈالر کی رقم ہرجانے کے طور پر ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی ریاست کولو راڈو میں قائم ’کارگیل میٹ سولوشنز‘ نامی کمپنی نے کچھ عرصہ پیشتر مسلمان ملازمین کو نماز کے لیے کام کے اوقات سے رخصت دینے کی درخواست مسترد کر دی تھی اور دوران ڈیوٹی نماز ادا کرنے والے ایک سو اڑتیس صومالی ملازمین کو نکال دیا تھا۔امریکا میں ملازمین کے حقوق کے لیے قائم کردہ American Commission for Equal Employment Opportunities‘ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کارگیل میٹ سولوشنز‘ جس کا صدر دفتر کنساس کے علاقے ویٹیچیسا میں ہے، نے نہ صرف نکالے گئے ملازمین کو ہرجانے کے طور پر ایک کروڑ پچاس لاکھ ڈالر کی رقم ادا کرے گی بلکہ وہ مسلمان ملازمین کے لیے نماز کے اوقات میں انہیں وقفہ مہیا کرے گی۔کمیشن کی طرف سے کہا گیا ہے کہ کمپنی کے بیان کے مطابق اس نے ملازمین کو مذہبی عبادات کی ادائیگی کی پاداش میں ملازمت سے نکال کر کوئی غلطی نہیں کی تاہم کمپنی کی طرف سے نکالے گئے افراد کی طرف سے عدالت میں دائر کردہ دعوے کے مطابق انہیں رقم ادا کی جائے گی۔کمیشن کا کہنا ہے کہ امریکی کیمپنی کے فورٹ مورگن میں موجود کارخانے کے مسلمان ملازمین کو نماز کے اوقات میں رخصت دی جائے گی۔خیال رہے کہ امریکی کمپنی کی طرف سے صومالی مسلمان ملازمین کو سنہ 2016ء4 کو ملازمت سے صرف اس لیے نکال دیا تھا کہ وہ ڈیوٹی کے اوقات میں نماز ادا کرتے تھے۔سنہ2017ء4 کو امریکا کی فیڈرل ایجنسی برائے انسداد امتیاز کی طرف سے کہا گیا تھا کہ کارگیل میٹ سولوشنز کی جانب سے مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی سے روکنا اور انہیں نماز کی وجہ سے ملازمت سے نکالنا مساوات کے اصولوں کے خلاف ہے۔ کمپنی کی طرف سے ملازمین کے حقوق کو پامال کیا گیا۔دریں اثناء4 کمپنی کے چیئرمین نے ایک بیان میں کہا کہ ملازمین کو مذہبی رسومات کی ادائیگی کی سہولت کمپنی کے اصولوں کا حصہ ہے۔ ہم اپنے ملازمین کے ہرطرح کے حقوق کی نگہداشت کریں گے۔اب کمپنی نکالے گئے ملازمین کو فی کس ایک لاکھ 53 ہزار ڈالر کی رقم ادا کرے گی

About the author

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

Leave a Comment

%d bloggers like this: