انٹرٹینمنٹ

آئین کے آرٹیکل 9 میں شامل ہر صحافی اور میڈیا پروفیشنل کو زندگی اور فرد کی سیکورٹی کا حق حاصل ہے

پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز بل 2021ء کے اہم نکات سامنے آگئے جس کے مطابق آئین کے آرٹیکل 9 میں شامل ہر صحافی اور میڈیا پروفیشنل کو زندگی اور فرد کی سیکورٹی کا حق حاصل ہے۔ تفصیلات کے مطابق بل پانچ حصوں پر مشتمل ہے،بنیادی، صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے حقوق، صحافیوں کی تربیت اور انشورنس، تحقیقات اور ازالہ اور متفرقات ہیں ،بل میں صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے حقوق تجویز کئے گئے ہیں۔آئین کے آرٹیکل 9 میں شامل ہر صحافی اور میڈیا پروفیشنل کو زندگی اور فرد کی سیکورٹی کا حق حاصل ہے۔ صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ملک کے اندر متنازعہ متاثرہ علاقوں میں اپنے فرائض کی انجام دہی کو بغیر کسی خطرہ، دھمکی، ہراسگی یا ظلم کا نشانہ بننے کے خوف کے بغیر انجام دے سکیں۔ صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کو اپنے ذرائع خفیہ رکھنے کا حق حاصل ہے۔ حکومت صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کو کسی بھی شخص، ادارے (سرکاری یا نجی) یا اتھارٹی کے ہاتھوں ہر طرح کی زیادتی، تشدد، استحصال سے محفوظ رکھنے کے لئے اقدامات کرے گی۔اس بل کا مقصد جرنلسٹس ویلفیئر سکیم کا آغاز کرنا ہے جس کے تحت میڈیا مالکان صحافی اور میڈیا پروفیشنلز کے لئے ایک جامع، تحریری سیفٹی پالیسی اور پروٹوکولز تیار کریں گے۔ اس بل میں صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے تحفظ کے لئے کمیشن کے قیام کا بندوبست کیا گیا ہے جس میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) اور نیشنل پریس کلب اور وزارت انسانی حقوق اور وزارت اطلاعات و نشریات سے نمائندے شامل ہوں گے۔یہ بل کمیشن کو اختیار دیتا ہے کہ وہ صحافیوں کی دھمکی، پرتشدد کارروائیوں، قتل، پرتشدد حملوں،بے وجہ گرفتاری، نظربندی اور ہراسگی کی شکایات کی تحقیقات کرے اور ان کیسز کا تعین کرے جو وفاقی اور صوبائی فنڈز سے معاوضے کے اہل ہوں۔
٭٭٭٭٭

About the author

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

Leave a Comment

%d bloggers like this: