انٹرٹینمنٹ

اداکاررنگیلا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے

برجستہ جملے اور اداکاری ایسی کہ دیکھنے والے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جائیں، یہ پہچان ہے اداکار رنگیلا کی جن کی پیر 24مئی کو 16 ویں برسی منائی گئی۔اپنے مخصوص انداز سے شائقین کو محظوظ کرنے والے اداکار رنگیلا نے اپنے فلمی سفر میں چھ سو سے زائد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے اور صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سمیت متعدد ایوارڈ بھی اپنے نام کئے، شہنشاہ ظرافت منور ظریف کے ساتھ ان کی جوڑی کا تو خوب چرچا رہا۔اپنی انوکھی اداکاری سیلاکھوں پرستاروں کے دلوں پر راج کرنے والے محمد سعید خان عرف رنگیلا یکم جنوری1937 کو افغانستان میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں سر سے والدین کا سایہ سر سے اٹھ گیا، اور وہ بہن کے ساتھ پشاور آگئے۔سینیما میں دلیپ کمار کی فلم دیکھنے کے بعد اداکاری میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا اور پشاور سے لاہور آگئے۔ لاہور آ کر پینٹر آزاد کے ساتھ فلمی پوسٹر بنانے شروع کیے تو نگار خانوں تک رسائی ملنے لگی۔ ہر انسان کی طرح وہ بھی خود کو دنیا کا پرکشش اور خوبصورت انسان سمجھنے کی خوش فہمی کا شکار تھے، جبھی مزید دل کشں نظر آنے کے لیے تن سازی کا آغاز کیا۔ لیکن یہاں بھی وہ مذاق ہی بن کر رہ گئے۔تن سازی کے مقابلے میں شرکت کرنے اسٹیج پر آئے، باڈی بلڈنگ کے پوز دیے تو حاضرین ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے، یہی وہ لمحہ تھا جب رنگیلا نے فلموں میں کام کرنے کی لگن اور جستجو کو اور زیادہ تیز کیا اور ہیرو بننے کی بجائے کامیڈین کے طور پر اپنی پہچان قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اور اپنا فلمی نام ‘رنگیلا’ منتخب کیا۔ابتدا میں انہیں فلم ‘داتا،’ ‘نوراں،’ ‘چوڑیاں’ اور ‘موج میلہ’ میں چھوٹے موٹے مزاحیہ کردار ملے۔ 1963میں فلم ‘داغ’ اور ‘ہتھ جوڑی’ کی کامیابی اور بے ساختہ مزاحیہ اداکاری نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔کیریئر کے اس موڑ پر رنگیلا کو منور ظریف کا ساتھ مل گیا اور دونوں نے ایسی جوڑی بنائی جو ہر فلم کے لیے کام یابی کی ضمانت سمجھی جانے لگی۔ بلکہ کئی فلمیں تو ایسی ہیں جن میں یہی دو کامیڈین بطور ہیرو جلوہ گر ہوئے۔رنگیلا نے کم و بیش ساڑھے چھ سو سے زائد فلموں میں کام کیا۔ ان میں 244 اردو، 395 پنجابی اور 19 فلمیں پشتو زبان کی بھی تھیں۔ بطور پروڈیوسر اور ہدایت کار بھی ان کی صلاحتیں نکھر کر سامنے آئیں۔ رنگیلا نے ایک گیت ‘گا میرے منوا گاتا جا رے’ بھی خود ہی گایا اور آج تک مقبول ہے۔ان کی مشہور فلموں میں رنگیلا، دل اور دنیا، کبڑا عاشق، عورت راج، پردے میں رہنے دو،ایماندار، بے ایمان، انسان اور گدھا اوردو رنگیلے شامل ہیں۔ بہترین اداکاری اور دیگر شعبوں میں شاندار کارکردگی پرنو مرتبہ نگار ایوارڈ اپنے نام کیے۔طویل عرصہ جگر اور گردے کے عارضے میں مبتلا رہنے کے بعد 24 مئی 2005 کو ہمیشہ کے لیے اس دار فانی سے رخصت ہو گئے۔ لیکن ان کی اداکاری کے منفرد انداز کو بھلانا کسی طور پر ممکن نہیں۔
٭٭٭٭٭

About the author

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

Leave a Comment

%d bloggers like this: