دنیا

سعودی عرب، گرمی کی شدت میں طائف سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا

Written by Peerzada M Mohin

سعودی عرب میں ان دنوں درجہ حرارت بڑھنے سے سیاحوں کا رخ ملک کے مغربی شہر طائف کی طرف ہو گیا ہے۔ طائف کی فضا اور آب وہوا کافی خوش گوار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ طائف میں کئی ایک اہم سیاحتی مقامات ہیں جو سیاحوں کی کشش کا باعث ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق ہرسال سعودی عرب میں گرمیوں کی تعطیلات کے دوران اور موسم گرما کے عروج کے چار مہینوں میں نسبتا معتدل موسم کی تلاش میں لوگ طائف کا رخ کرتے ہیں۔طائف سعودی عرب کے سیاحتی علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ وہاں پر کئی ایک تاریخی اور سیاحتی مقامات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی سطح پر طائف کے کئی نام مشہور ہیں۔ ان میں عروس المصائف، طائف المانوس، انس، السرور جیسے نام اس کی سیاحتی اہمیت کی بدولت دیے گئے ہیں۔طائف کی تاریخ پرنظر رکھنے والے دانشور احمد الجعید نے کہاکہ طائف اپنی منفرد اور معتدل آب و ہوا کی وجہ سے مشہور ہے اور موسم گرما میں یہاں لوگوں کی بڑی تعداد کچھ وقت گذارنے کے لیے تی ہے۔ طائف کی سیر کو نہ صرف سعودی عرب کے اندر سے لوگ آتے ہیں بلکہ بیرون ملک سے بھی سیاح اس کا رخ کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کے سابق فرمانروا شاہ فیصل نے طائف کو موسم گرما کا دارالحکومت قرار دیا تھا۔ ان کے دور میں تین ماہ تک بعض سرکاری محکموں کے دفاتر طایف منتقل کیے جاتے رہے ہیں۔جغرافیائی قربت کی وجہ سے مکہ مکرمہ کے باشندوں کا پہلا پڑاو طائف ہے جو ہرسال چار ماہ کے لیے گرمیاں طائف میں گذارتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ طائف میں کئی پہاڑی علاقے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں جن میں الشفا، الھدا، دکہ، الحلوانی، جبل الاخضر، الردف سیرگاہ اور سیسد سیرگاہ سیاحوں کیلیے غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہیں۔
٭٭٭٭٭٭

About the author

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

Leave a Comment

%d bloggers like this: